الۗمّۗرٰ یہ (اللہ کی) کتاب کی آیات ہیں۔ اور (اے نبی !) جو چیز آپ پر نازل کی گئی ہے آپ کے رب کی طرف سے وہ حق ہے لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے (یا ایمان لانے والے نہیں ہیں)
اللہ ہی ہے جس نے اٹھایا ہے آسمانوں کو بغیر ایسے ستونوں کے جنہیں تم دیکھتے ہو پھر وہ متمکن ہوا عرش پر اور اس نے (مسلسل) کام میں لگا دیا سورج اور چاند کو ہر ایک چل رہا ہے ایک وقت معین کے لیے وہ تدبیر فرماتا ہے اپنے امر کی اور تفصیل بیان کرتا ہے اپنی آیات کی تاکہ تم اپنے رب کی ملاقات کا یقین کرو
اور وہی ہے جس نے زمین کو پھیلایا اور بنائے اس میں لنگر (یعنی پہاڑ) اور ندیاں اور اس نے ہر طرح کے پھلوں میں جوڑے بنائے وہ ڈھانپ دیتا ہے دن پر رات کو یقیناً اس میں نشانیاں ہیں غور وفکر کرنے والوں کے لیے
اور زمین میں قطعات ہیں ایک دوسرے سے متصل اور باغات انگوروں کے اور کھیتیاں اور کھجور کے درخت جڑوں سے ملے ہوئے بھی اور الگ الگ بھی انہیں ایک ہی پانی سے سیراب کیا جاتا ہے (اس کے باوجود) ہم کسی کو کسی پر فضیلت دے دیتے ہیں ذائقے میں یقیناً اس میں نشانیاں ہیں عقل والوں کے لیے
اور اگر تمہیں تعجب کرنا ہے تو قابل تعجب ہے ان کا یہ قول کہ کیا جب ہم (مر کر) مٹی ہوجائیں گے تو کیا ہم از سرِ نو وجود میں آئیں گے یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کا انکار کیا اور یہی وہ لوگ ہیں جن کی گردنوں میں طوق پڑے ہوئے ہیں اور یہی جہنمی ہیں اس میں رہیں گے ہمیشہ ہمیش
اور یہ لوگ جلدی مچا رہے ہیں آپ سے برائی (عذاب) کے لیے بھلائی سے پہلے حالانکہ ان سے پہلے (بہت سی) مثالیں گزر چکی ہیں اور یقیناً آپ کا رب لوگوں کے حق میں معاف کرنے والا ہے ان کے ظلم کے باوجود اور یقیناً آپ کا رب سخت سزا دینے والا بھی ہے
اور کافر لوگ کہتے ہیں کہ کیوں نہیں اتاری گئی اس شخص پر کوئی نشانی اس کے رب کی طرف سے (اے نبی !) آپ تو بس خبردار کردینے والے ہیں اور ہر قوم کے لیے ایک ہادی ہے
(اس کے علم میں) برابر ہیں تم میں سے جو بات کو (دل میں) چھپائیں اور جو اسے (بلند آواز سے) ظاہر کریں اور وہ جو رات کی تاریکی میں چھپے ہوئے ہوں اور جو دن کی روشنی میں چلتے پھرتے ہوں