۟
تو انہوں نے اعراض کیا چناچہ ہم نے بھیج دیا ان پر سیلاب بہت زور کا اور ہم نے بدل دیے ان کے دو باغوں کی جگہ دو اور باغ جن میں کڑوے کسیلے پھل جھائو کے درخت اور کچھ تھوڑی سی بیریاں تھیں۔
۟
یہ بدلہ دیا ہم نے ان کو ان کے کفر انِ نعمت کی وجہ سے } اور ہم ایسا برا بدلہ نہیں دیتے مگر نا شکرے لوگوں کو
۟
ہم نے ان کے (علاقے) اور ان بستیوں کے درمیان جنہیں ہم نے برکت عطا کر رکھی تھی واضح نظر آنے والی بستیاں قائم کردی تھیں اور ہم نے اندازہ مقرر کردیا تھا ان میں سفر کرنے کا } (ہم نے انہیں کہہ دیا تھا کہ) تم سفر کرو ان میں راتوں کو بھی اور دن کو بھی امن کے ساتھ۔
۟
تو انہوں نے کہا : اے ہمارے پروردگار ! ہمارے سفروں کے درمیان دوری پیدا کر دے اور انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تو ہم نے انہیں کہانیاں بنا دیا اور انہیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے رکھ دیا یقینا اس میں نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لیے جو بڑا صبر کرنے والا شکر کرنے والا ہو۔
۟
اور یقینا ابلیس نے ان کے بارے میں اپنا گمان سچ کر دکھایا } سو ان سب نے اس (ابلیس) کی پیروی کی سوائے مومنین کی ایک جماعت کے
۟۠
اور اس کو ان پر کوئی اختیار حاصل نہیں تھا مگر یہ کہ ہم دیکھ لیں کہ کون ہے جو آخرت پر یقین رکھتا ہے } ان لوگوں سے جو اس سے متعلق شک میں ہیں۔ اور آپ کا پروردگار ہرچیز پر نگران ہے۔
۟
(اے نبی ﷺ ! ان مشرکین سے) کہیے کہ تم بلائو ان کو جنہیں تم نے (معبود) گمان کیا ہے اللہ کے سوا وہ ذرّہ برابر بھی اختیار نہیں رکھتے نہ آسمانوں میں اور نہ ہی زمین میں اور نہ ان دونوں (زمین اور آسمان) میں ان کا کوئی حصہ ہے اور نہ ہی ان میں سے کوئی اس کا مدد گار ہے۔
۟
اور نہ نفع دے گی اس کے ہاں کوئی سفارش مگر اسی کے حق میں جس کے لیے اس نے اجازت دی ہو۔ یہاں تک کہ جب گھبراہٹ دور کردی جاتی ہے ان کے دلوں سے وہ پوچھتے ہیں تمہارے ربّ نے کیا فرمایا تھا ؟ وہ کہتے ہیں کہ (اُس نے جو کچھ فرمایا ہے وہ) حق ہے اور وہ بہت بلند وبالا بہت بڑا ہے۔
۟
آپ ﷺ (ان سے) پوچھئے کہ کون ہے جو تمہیں رزق بہم پہنچاتا ہے آسمانوں اور زمین سے ؟ آپ ﷺ کہیے کہ اللہ ! اور یقینا ہم یا تم لوگ یا تو ہدایت پر ہیں یا کھلی گمراہی میں !
Notes placeholders