21:5 ile 21:6 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz
بَلْ
قَالُوْۤا
اَضْغَاثُ
اَحْلَامٍ
بَلِ
افْتَرٰىهُ
بَلْ
هُوَ
شَاعِرٌ ۖۚ
فَلْیَاْتِنَا
بِاٰیَةٍ
كَمَاۤ
اُرْسِلَ
الْاَوَّلُوْنَ
۟
مَاۤ
اٰمَنَتْ
قَبْلَهُمْ
مِّنْ
قَرْیَةٍ
اَهْلَكْنٰهَا ۚ
اَفَهُمْ
یُؤْمِنُوْنَ
۟
3

حق کا داعی ہمیشہ حق کی دعوت کو دلیل کے زور پر پیش کرتا ہے۔ مخالفین جب دیکھتے ہیں کہ وہ دلیل سے اس کا توڑ نہیں کرسکتے تو وہ طرح طرح کی باتیں نکال کر عوام کو اس سے برگشتہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ یہ شاعرانہ کلام ہے۔ یہ ادبی ساحری ہے۔یہ ایک دیوانے کے تخیّلات ہیں۔ یہ اپنے جی سے بنائی ہوئی باتیں ہیں، وغیرہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چوں کہ اہل مکہ کے سامنے کوئی حسی معجزہ نہیں دکھایاتھا۔ اس لیے آپ کی رسالت کو مشتبہ کرنے کے لیے وہ یہ بھی کہتے تھے کہ یہ اگر خدا کے بھیجے ہوئے ہیں تو پچھلے پیغمبروں کی طرح خدا کے پاس سے کوئی معجزہ لے کر کیوں نہیں آئے۔

مگر تاریخ کا تجربہ بتاتا ہے کہ جو لوگ دلیل سے بات کو نہ مانیں وہ معجزہ کو دیکھ کر بھی اس کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔اس ليے لوگوں کے ساتھ خیر خواہی یہ ہے کہ دلیل کی زبان میں ان کی نصیحت جاری رکھی جائے، نہ کہ معجزہ دکھا کر ان پر اتمام حجت کردی جائے۔ کیوں کہ معجزے سے نہ ماننے کے بعد دوسرا مرحلہ ہلاکت ہوتا ہے۔