اَللّٰهُ
یَبْدَؤُا
الْخَلْقَ
ثُمَّ
یُعِیْدُهٗ
ثُمَّ
اِلَیْهِ
تُرْجَعُوْنَ
۟
3

اللہ یبدوا الخلق ۔۔۔۔ ترجعون (11)

یہ بہت ہی واضح اور سادہ حقیقت ہے اور اس کے دونوں اجزاء اور دونوں کڑیوں کے درمیان ربط مکمل واضح ہے کیونکہ کسی چیز کا پہلی بار بنانا اور اس کا دوبارہ بناناقابل فہم بات ہے ۔ اس میں اچنبھے کی کوئی بات نہیں ہے۔ تخلیق میں یہی دو حلقے ہوتے ہیں ، ان کے درمیان یہی تعلق ہوتا ہے اور انسان کی تخلیق کے بعد اس کے خالق کے سامنے دوبارہ پیش ہونا ایک لازمی اور معقول امر ہے۔ وہی پہلی بار تخلیق کرنے والا ہے اور وہی دوسری بار تخلیق کرنے والا ہے۔ اور یہ اس لیے کہ اچھا اور برا کام کرنے والوں کو وہ پوری پوری جزاء اور سزا دے۔

بعث بعد الموت پر یہ دلیل دینے کے بعد اب یہاں بعث بعد الموت کا ایک منظر پیش کیا جاتا ہے۔ اس میں اہل ایمان اور

اہل کفر کے انجام کی ایک جھلک دکھائی جاتی ہے ، جسکے اندر شریکوں اور عقیدہ شرک کے بودے پن کو اچھی طرح ظاہر کیا گیا ہے۔