لَقَدْ
اَنْزَلْنَاۤ
اِلَیْكُمْ
كِتٰبًا
فِیْهِ
ذِكْرُكُمْ ؕ
اَفَلَا
تَعْقِلُوْنَ
۟۠
3

لقد انزلنآ۔۔۔۔۔۔۔۔ افلا تعقلون ( ” ۔

قرآن ایک ایسا معجزہ ہے کہ یہ تمام نسلوں کے لی کھلا معجزہ ہے۔ یہ ایسا معجزہ نہیں ہے کہ ایک ہی نسل میں اس کا مظاہرہ ہو ‘ لوگ اس سے متاثر ہوں اور وہ ختم ہوجائے۔ یہ ایک دائم وقائم معجزہ ہے۔

قرآن کریم کے ذریعہ عربوں کو بھی بڑی شہرت ملی جب وہ قرآن کے پیغام کو لے کر مشرق و مغرب تک جا پہنچے۔ اس سے پہلے وہ کوئی قابل ذکر لوگ نہ تھے۔ نہ ان کے پاس انسانیت کو دینے کے لیے کوئی قابل ذکر چیز تھی۔ جب تک عربوں نے اس کتاب کو مضبوطی سے پکڑے رکھا انہوں نے اس کے ذریعہ پوری انسانیت کی راہنمائی کی ‘ تو وہ بھی کامیاب رہے اور اس کی وجہ سے پوری انسانیت کو بھی کامیابی اور خوسحالی نصیب ہوئی ‘ جب عربوں نے اس کتاب کو چھوڑا تو انسانیت نے بھی انہیں چھوڑ دیا اور لوگوں کے اندر عربوں کا ذکر ختم ہونے لگا۔ یہ لوگ قافلہ انسانیت کے دم چھلا بن گئے اور انسانوں میں سے جو چاہے ‘ انہیں اچک لیتا ہے لیکن جب یہ کتاب انہوں نے مضبوطی سے تھام رکھی تھی تو لوگ ان کے ماحول میں اچک لیے جاتے تھے اور یہ محفوظ تھے۔

حقیقت یہ ہے کہ عرب قرآن کے سوا انسانیت کو کیا تحفہ دے سکتے ہیں ؟ قرآن کے سوا ان کے پاس اور ہے کیا ؟ ان کے پاس قرآنی فکر کے سوا انسانیت کے سامنے پیش کرنے کے لیے کوئی اور فکر نہیں ہے۔ اگر وہ انسانیت کے سامنے یہ کساب پیش کریں گے تو انسانیت ان کو پہچان لے گی۔ ان کا ذکر کرے گی اور ان کو سروں پر اٹھائے گی کیونکہ اسے عربوں سے ایک نفع بخش پیغام ملے گا۔ لیکن اگر وہ انسانوں کے سامنے محض عربوں کو بحیثیت ایک قوم پیش کریں گے تو انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ان کی حیثیت کیا ہے اور وہ کیا ہیں ؟ اس کتاب کے سوا ان کے اس نسب نامے کی کیا وقعت ہے۔ انسانیت نے عربوں کو اس کتاب کے ذریعے ‘ اسلامی نظریہ حیات کے ذریعے اور اس کتاب سے اخذ کردہ نظام حیات کے ذریعے پہچانا تھا۔ انسانیت میں ان کو جو مقام حاصل ہوا تھا وہ اس لیے نہ تھا کہ وہ عرب ہیں۔ کیونکہ صرف عرب ہونا تاریخ انسانیت میں کوئی چیز نہیں ہے اور تہذیب کی ڈکشنری میں لفظ عرب کا کوئی مقام نہیں ہے۔ عربوں کی پہچان اسلامی تہذیب و تمدن سے تھی اور ہے۔ اسلامی تہذیب اور اسلامی فکر ‘ اسلامی فلسفہ اور اسلامی تمدن کے تو تمدن کی ڈکشنری میں نام ملیں گے لیکن عرب کا اس میں کوئی نام نہیں ہے۔

اسی حقیقت کی طرف قرآن کریم یہاں ارشارہ کررہا ہے۔ مشرکین کو مخاطب کر کے کہا جاتا ہے کہ یہ کتاب تمہاری پہچان ہے۔ لیکن تم اس کتاب میں آنے والی نئی تعلیمات کا استقبال غفلت ‘ اعراض اور تکذیب اور مذاق کے ساتھ کرتے تھے۔

لقد انزلنآ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ افلا تعقلون (12 : 01) ” لوگو ہم نے تمہاری طرف ایک ایسی کتاب بھیجی ہے جس میں تمہارا ہی ذکر ہے ‘ کیا تم سمجھتے نہیں ہو “۔

عرب مشرکین پر اللہ کا کرم تھا کہ ان کے سامنے نبی ﷺ کے ذریعہ کوئی خارق عادت معجزہ پیش نہ کیا گیا ‘ ورنہ وہ انکار کرتے اور ان کی بیح گنی اسی طرح سنت الہیہ کے مطابق ہوجاتی جس طرح تاریخ میں کئی اقوام اور کئی بستیوں کی ہوئی۔ یہاں اللہ تعالیٰ ایک زندہ منظر کی شکل میں ایسی اقوام کے استیصال اور تباہی و بربادی کو دکھاتے ہیں۔